وہ چھ دن جنہوں نے مشرق وسطیٰ کو بدل دیا

وہ چھ دن جنہوں نے مشرق وسطیٰ کو بدل دیا
وہ چھ دن جنہوں نے مشرقِ وسطیٰ کو بدل دیا.

جون 1967ء میں  اسرائیل اور عرب ریاستوں میں لڑی گئی وہ چھ دنوں کی جنگ مختصر مگر خون ریز تھی.

عرب اسرائیل تنازعہ :
اسرائیل اور عرب ریاستوں کی کئی دہائیوں سے جاری رہنے والی سیاسی اور عسکری چپقلش اس چھ دن کی جنگ کا پیش خیمہ ثابت ہوئ.
1948ء میں اسرائیل کے وجود میں آنے کے بعد، عرب اتحاد نے اس ناجائز ریاست پر چڑھائی کی جسے پہلی عرب اسرائیل جنگ کے طور پر جانا جاتا ہے.

دوسرا بڑا تنازعہ:
دوسرا بڑا تنازعہ سوئز بحران کے نام سے مشہور ہے. جو 1956ء میں تب ابھرا جب مصر کے صدر جمال عبدالنصیر کے سوئز کنال کو قومی تحویل میں لینے پر اسرائیل، برطانیہ اور فرانس نے مصر پر متنازعہ حملہ کیا.
1960 کی دہائی #مشرقِ وسطیٰ کے لیے قدرے سکون دہ گزری لیکن صورتحال کسی بھی وقت خراب ہونے کا خطرہ ہر وقت منڈلاتا رہتا. 

جنگ کا پس منظر :
عرب کے حکمران اپنے فوجی نقصانات اور 1948ء کی جنگ میں بناۓ گئے لاکھوں  فلسطینی پناہ گزینوں کی وجہ سے سخت غم اور غصے میں تھے. 
جنگ شروع ہونے سے پہلے شام، لبنان اور اُردن میں موجود فلسطینی گوریلاز کی جانب سے اسرائیل پر کئی حملے کیے گئے. جس کے نتیجے میں اسرائیل نے کئی انتقامی کارروائیاں کی. نومبر 1966ء میں  اُردن کے ایک گاؤں,, السمو،، پر اسرائیل نے حملہ کیا جس میں جانی نقصان ہوا. اسی دوران اسرائیل نے شام کے چھ لڑاکا طیارے بھی مار گراۓ. مزید یہ کہ مئی میں سوویت یونین انٹیلیجنس رپورٹ میں نشاندہی کی گئی کہ اسرائیل شام کی طرف پیش قدمی کرنے والا ہے جو کہ بعد میں غلط خبر ثابت ہوئی لیکن اس خبر نے عرب اسرائیل تنازعے کو مزید ہوا دی. 

مصر کے صدر شام اور اُردن کی مدد نہ کرنے پر پہلے ہی سخت تنقید کی زد میں تھے. تاہم انہوں نے سینا کی طرف اپنی فوجیں روانہ کر دیں اور 18 مئی کو انہوں نے اقوام متحدہ کے ایمرجنسی فورس کے اسٹیشن (UNEF) کو وہاں سے ہٹنے کی درخواست کی. 
22 مئی کو انہوں نے اسرائیلی بحری جہازوں کے لیے عقبہ کا خلیج بند کر دیا. جس کی وجہ سے جنوبی اسرائیلی شہر ایلات کی بندرگاہ بند ہو گئ. 
اس کے بعد 30 مئی کو اُردن کے بادشاہ حسین قاہرہ آۓ اور اپنی فوج کو مصر کی فوج کے تابع کرنے کے معاہدے پر دستخط کئے. جس میں بعد میں عراق بھی شامل ہو گیا. 

جنگ کے خاص واقعات:
ہمسایہ ممالک کی نقل وحرکت کو دیکھتے ہوئےاسرائیل نے 5 جون کی صبح مصر پر اچانک حملہ کر دیا اور مصر کی ائیرفورس کو %90 تباہ کر دیا. ایسا ہی ایک حملہ اسرائیل نے شام، اُردن اور عراق پر کر کے اسے بھی مفلوج کر دیا، ائیرفورس کی مدد کے بغیر مصر کی بَری فوج سخت مشکل میں آ گئی. 
5 جون کے دن کے اختتام تک اسرائیلی پائلٹس نے مشرقِ وسطیٰ پر کافی حد تک قبضہ کر لیا تھا. لیکن جنگ کچھ اور دن جاری رہی. 5 جون کو ہی مصر سے زمینی جنگ شروع ہوئی. اسرائیلی ٹینکوں اور فوج نے جزیرہ نماۓ سینا اور غزہ کی پٹی پر تابڑ توڑ حملے کیۓ.مصر کی فوج ڈٹی رہی لیکن پھر فیلڈ مارشل عبدالحکیم کے حکم پر فوج پیچھے ہٹ گئی. 
ان چھ دنوں کی جنگ کا دوسرا محاذ 5 جون کو ہی اُردن میں اس وقت کھلا جب اُردن نے مصر کی جیت کی غلط خبر پر یروشلم میں اسرائیلی ٹھکانوں پر حملہ کر دیا. 
اسرائیل نے اس حملے کا بھرپور جواب دیا. اور 7 جون کو اسرائیلی فوج نے یروشلم کے پرانے شہر پر قبضہ کر لیا اور مغربی دیوار کے ساتھ عبادت کر کے اپنی فتح کا جشن منایا. 
اس جنگ کے آخری مرحلے میں 9 جون کو اسرائیل نے اسرائیل اور شام کی سرحد پر بَری اور ہوائی حملہ کیا اور گولان کی پہاڑیوں پر قبضہ کر لیا. 
 
10 جون 1967ء کو اقوام متحدہ نے جنگ بندی کا اعلان کیا اور چھ دن کی یہ جنگ اختتام کو پہنچی. اس 132 گھنٹوں کی جنگ میں بیس ہزار مسلمان فوجی شہید ہوئے اور آٹھ سو  اسرائیلی فوجی ہلاک ہوئے. 
اس ہار سے عرب رہنما شدید صدمے میں آ گئے اور مصر کے صدر النصیر نے استعفیٰ دے دیا لیکن مصری عوام کی بڑی تعداد میں اظہارِ یکجہتی کے بعد انہیں استعفیٰ واپس لینا پڑا. 
اور تب اسرائیلی ریاست کا تکبر آسمان کو چھو رہا تھا جب اس نے ایک ہفتے سے بھی کم وقت میں جزیرہ نماۓ سینا ، غزہ کی پٹی، مشرقی  یروشلم اور  گولان کی پہاڑیوں پر قبضہ کر لیا. 
تاہم بعد میں امن معاہدے کی بناء پر اسرائیل نے جزیرہ نماۓ سینا مصر کے حوالے کر دیا. اور 2005ء میں غزہ کی پٹی سے بھی دستبردار ہو گیا لیکن پھر بھی ان جگہوں پر اپنی آبادیاں قائم کرنے سے باز نہیں آیا. خاص طور پر گولان کی پہاڑیوں اور یروشلم کے مغربی کنارے پر..
اور آج بھی یہ خطے عرب اور اسرائیل کے درمیان متنازعے ہیں.

Post a Comment

جدید تر اس سے پرانی