کسی بیوفا کی خاطر یہ جنوں کب تک رضوان


عشق رومی،عشق جامی،عشق کوۂ طور
عشق حبشی،عشق قرنی،عشق ہے منصور
اسے کسی سے محبت تھی اور وہ میں نہیں تھا
یہ بات مجھ سے زیادہ اسے رلاتی تھی
کسی بیوفا کی خاطر یہ جنوں کب تک رضوان
جو تمہیں بھول چکا ہے،تم بھی اسے بھول جاؤ
ذلیل کرنے میں تیرے شہر کے لوگوں کا بھی ہاتھ تھا
گر تیری فکر نہ ہوتی تیرے شہر کو ہی جلا دیتا
تیرے عشق کی مستی میں ہوا ہوں دیوانہ
ایک جام سے کیا ہوگا پلادے میخانہ

Post a Comment

جدید تر اس سے پرانی