تجھے پڑھنے کی فرصت ہی نا ملی''ساقی'' ‏


تجھے پڑھنے کی فرصت ہی نا ملی''ساقی''
ہم تیرے شہر میں بکتے رہے کتابوں کی طرح
میرے صبر کی انتہا کیا پوچھتے ہو''فراز''
وہ مجھ سے لپٹ کے رویا کسی اور کیلئے
عجیب ہے میرا اکیلاپن بھی
نا خوش ہوں نا اداس ہوں
بس خالی ہوں خاموش ہوں
تم مجھے بھول بھی جاؤ تو یہ حق ہے تم کو
میری بات اور ہے،میں نے تو محبت کی ہے
دل وہ آباد نہیں جس میں تیری یاد نہیں
ہے وہ کافر جو تیری راہ میں برباد نہیں

Post a Comment

جدید تر اس سے پرانی